“شخصیت پرستی سے جسٹس قاضی فائز عیسی تک”

تعارف:
انسانکیفطرتمیںپسنداورناپسندکاسفرلکھاہےپسندیدہچیزمیںہزارلاکھخامیاںہویاایکخوبیہویابالکلاسکےالٹکوئیفرقنہیںپڑتااگرکچھپراثرہےتومائنڈیاذہنمیںموجودخاکہ،جوکسیچیز،شخصکوپسندیاناپسندبناتیہےشائدیہیپسندناپسندکاکھیلیاپراسیسںآگےبڑھکےعقیدت،عبادتاورپھراندھیپوجاتکپہنچگیایہیوجہہےکہانساننےاپنےلئےایکاصولوضوابطمقررکئےجیسےمذہبکامقدسنامدیاگیا( ابیہخداوندکیطرفسےتھےیاہےیانہیںیہایکالگمعاملہہے) بہرحالیہیمذاہبانسانکیپہچانبنگئےاسلامکےناملیواکومسلمان،ہندومذہبسےرغبتکوہندواورسکھعیسائیاوریہودیکابھییہیمعاملہرہا
وجہتسمیہ:
کہاجاتاہےکہجببستیکےچاربزرگوںاورتقویدارفوتہوگئےتوانسانوںنےانکیمورتیاںبنالیاببجائےاسکےیہبزرگجسہستیکیعبادتکررہےتھےاسکیعبادتکرتےانھوںنےبزرگوںکواپناپیشوامانلیایہلیشخصیتپرستیکیابتدایہیسےمعلومہوتیہے
پسمنظر:
اسیپسمنظرکوذہنمیںرکھتےہوئےاگرکسیبھیشعبےکودیکھلیاجائےتوشخصیتپرستیاوراسسےجڑےمعاملاتکیسمجھآتیہےمثالکےطورپرپاکستانمیںحالیہواقعہجسٹسقاضیفائزعیسیصاحبکاہیدیکھلےانپرالزاملگایاگیاتومزیدتحقیقکےلئےسپریمجوڈیشلکونسلریفرینسبھجوایاگیاکہتحقیقاتکیجائےکیاواقعیایساہیہےجیسےاطلاعاتہے؟لیکننہیںحسبمعمولحسبسابقہمنےماننانہیںہمنےسیکھنانہیں۔
نتائج: 
ہمنےہڑتالیںکرنیہےپہیہجامکرناہےدھرنےدینےہےشوروغلکرناہےریاستکانقصانکرناہےاپنانقصانکرناہےمرناہےمارناہےزندگیکیکوئیوقعتباقینہیںرکھنیبیرونملکاپنےملککوکوسناہےدنیامیںاپنیبےحسیکیدھاکبٹھانیہےبیرونیدنیاکوبتاناہےکہآؤاوردیکھوجسآزادیکےلئےہمارےآباؤاجدادنےقربانیاںدیجسکےلئےٹھوکریںکھائیجسکےلئےلٹےپٹےجسکےلئےخونپسینہبہایاجسوطنکوحاصلکرنےکیتگودومیںعزتوآبروکاصدوہکیاآجہماسیکونوچرہےہیںآپکےترکےمیںچھوڑیآزادیکوپنجوںسےکھرچرہےہیںاسیجالمیںجگہیںبنارہےہیںعنقریبہےکہخدانخواستخدانخواستہہمپھرسےایکبازوسےکھوجائےاورعقبمیںایکاوربنگلہدیشکاجھنڈالہراجائے۔۔۔ 

Post a Comment

0 Comments